احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 61 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 61

بھی اس کی مخالفت میں ووٹ دیا اور مصر، افغانستان، عراق اور سعودی عرب نے بھی عافیت اسی میں ہی سمجھی کہ رائے شماری میں حصہ نہ لیں حالانکہ اس کے نتیجہ میں کئی مسلمان ممالک کی آزادی میں سہولت پیدا ہوئی تھی۔اگر احمدی مغربی طاقتوں کی کھیل کھیل رہے تھے تو اُس وقت صرف ایک احمدی نے اس اہم ترین موقع پر مغربی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت کیوں کی تھی اور باقی ممالک جن میں سعودی عرب بھی شامل تھا یہ ہمت کیوں نہ کر سکے؟ جب بھی کسی کمزور ملک میں کوئی طبقہ کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں میں کھیلنا شروع کرتا ہے تو اس طبقہ کے اس طاقت سے روابط پیدا ہوتے ہیں اور یہ طبقہ اپنے ہم وطنوں کے خلاف اس طاقت کا آلہ کار بن کر اس بڑی طاقت کی خدمت میں اپنی رپورٹیں پیش کرتا رہتا ہے۔جب پاکستان آزاد ہوا تو اُس وقت امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر سامنے آچکا تھا۔اب اُس وقت کا امریکی وزارت خارجہ کا ریکارڈ بڑی حد تک declassify ہو چکا ہے اور شائع بھی ہو چکا ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی کئی نمایاں شخصیات کے امریکہ سے خفیہ روابط تھے۔جب 1947ء سے 1955 ء تک کا یہ ریکارڈ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خود پاکستان کے ایک گورنر جنرل نے امریکہ کی حکومت کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ اُس وقت پاکستان کے وزیر اعظم سے ذرا سخت رویہ اختیار کریں اور اس ریکارڈ کے مطابق 50 کی دہائی میں ایک قومی ادارے کے سربراہ نے امریکہ کے سفارتکاروں کے سامنے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ مرکزی حکومت کی نان سینس کو قبول نہیں کریں گے اور اگر سول انتظامیہ ناکام ہوئی تو وہ نظم و نسق سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔اس ریکارڈ میں دور دور تک اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ کبھی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ان سفارتکاروں سے اس قسم کے خفیہ روابط ہوئے ہوں۔اگر یہ اوٹ پٹانگ مفروضہ درست ہے کہ احمدی پاکستان 61