احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 60
کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ہر کوئی جائزہ لے سکتا ہے کہ ان تقاریر میں امریکہ کے موقف کی بھر پور مخالفت کی گئی تھی۔ایک بار پھر حیرت ہوتی ہے کہ اگر احمدی مغربی طاقتوں کی کھیل کھیل رہے تھے تو پھر ایک احمدی کے سپرد یہ سب کام کیوں کئے گئے۔یہ 1947 ء کے واقعات ہیں۔اب ہم ایک مثال 1948 ء سے پیش کرتے ہیں۔دسمبر 1948ء میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا عالمی منشور تیار کیا جارہا تھا اور اس کے مسودہ پر بھر پور بحث ہورہی تھی۔جب اس کا مسودہ بحث کے لئے پیش ہوا تو سوویت یونین نے اس مسودہ میں ترامیم پیش کیں۔ان میں سب سے اہم ترمیم یہ تھی کہ اس مسودہ کے آرٹیکل 3 کو تبدیل کر کے پی شق شامل کی جائے کہ ہر کسی کو ہر قوم کو آزادی (self determination) کا حق حاصل ہے۔جو ممالک ان علاقوں پر قابض ہیں جنہیں ابھی خود اختیاری کا حق نہیں ملا یعنی وہ آزاد نہیں ہوئے ، اُن ممالک کو چاہیے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان علاقوں یا ممالک کو بھی اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق یہ حق حاصل ہو یعنی وہ بھی آزاد ہو جا ئیں۔اُس وقت بہت سے ممالک جن میں کئی مسلمان ممالک بھی شامل تھے برطانیہ اور فرانس کے قبضہ میں تھے اور اس ترمیم کے منظور ہونے کی صورت میں اس منشور میں ان کی آزادی کا حق تسلیم ہو جانا تھا۔10 دسمبر 1948ء کو اس ترمیم پر رائے شماری ہوئی۔اس ترمیم کے حق میں صرف آٹھ ممالک نے ووٹ دیئے۔ان ممالک میں سوویت یونین ، یوکرین، بیلوروس چیکوسلا و یکیا، پولینڈ ، کو لیمبیا، پولینڈ اور پاکستان شامل تھے۔مسلمان ممالک میں سے صرف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس تجویز کی تائید کی۔امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے تو اس تجویز کی مخالفت میں ووٹ دینا ہی تھا لیکن ستم ظریفی یہ کہ ایران، شام اور ترکی نے 60