احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 46 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 46

سے عقائد کے اختلافات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن یہاں تو یہ اظہار کیا جا رہا ہے کہ نہ کسی بزرگ کی راہنمائی کی گنجائش ہے اور نہ صوفیاء جیسے خیالات کی کوئی جگہ۔اور ایک اور بات قابل توجہ ہے کہ 1934ء میں اسلام پر کون سا روشن دور موجود تھا اور کس لحاظ سے مسلمانوں کی حالت قابل رشک تھی کہ اسے کسی بھی پہلو سے درمیانی صدیوں پر فوقیت حاصل ہوتی؟ یا اسے روشن دور قرار دیا جاسکتا۔وہ سیاسی طور پر غلام تھے۔آپس کے اختلافات نے مسلمانوں کا تماشہ بنایا ہوا تھا۔مالی طور پر مقروض اور قلاش، عسکری طور پر صفر۔علمی طور پر ہر لحاظ سے پسماندہ۔اور پھر بھی اس دور کو ایسا قراردیا جارہا ہے کہ کسی بھی مصلح کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ کوئی گنجائش۔علامہ اقبال کی ان تحریروں میں ختم نبوت کا جو تصور پیش کیا جا رہا ہے، وہ ایسا ہے کہ صرف نبوت سے ہی نہیں انکار کیا جاتا بلکہ ہر روحانی اتباع اور مصلح کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر دیا جاتا ہے۔اقبال لکھتے ہیں : "The cultural value of the idea of Finality in Islam I have fully explained elsewhere۔Its meaning is simple: No spiritual surrender to any human being after Muhammad who emancipated his followers by giving them a law" ترجمہ: خاتمیت کی معاشرتی اہمیت کے متعلق میں ایک اور جگہ وضاحت کر چکا ہوں کہ اس کا مطلب واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ وسلم نے قانون دے کر اپنے پیروکاروں کو آزاد کر دیا ہے۔اب روحانی طور پر کسی کے آگے سر جھکانے کی ضرورت نہیں۔یقینی طور پر قرآن کریم آخری شریعت ہے لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ کسی مجدد، خلیفہ یا بزرگ کی پیروی کی ضرورت نہیں اور نہ ان سے روحانی 46