احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 302 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 302

there be no compulsion in religion۔۔۔" (PLD1969 Lahore 289) ترجمہ : ہمیں اس مسئلے کے اس پہلو پر غور کرنا پڑے گا کیونکہ درخواست گزار کے فاضل وکیل نے اپنے دلائل کے دوران منیر انکوائری رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ایک جو اُس وقت پنجاب تھا اس کی ماتحت عدالت کا فیصلہ ہے اور دوسرا فیصلہ بہاولپور کی سابقہ ریاست کی ضلعی عدالت کا ہے۔ان فیصلوں میں جو ریکارڈ میں پیش کئے گئے ہیں یہ کہا گیا تھا کہ احمدی مسلمانوں کا فرقہ نہیں ہیں۔ہم اس بات پر حیران ہیں کہ یہ مثالیں اس معاملہ سے متعلقہ کس طرح ہیں؟ یہ ماتحت عدالتوں کے فیصلے ہیں اور قانون شہادت 1872ء کے سیکشن 13 کے مطابق متعلقہ بھی نہیں ہیں۔جہاں تک اُن مثالوں کا تعلق ہے جن میں احمدیوں کو مرتد قرار دے کر سزائے موت دی گئی تھی۔یہ وہ قابل افسوس مثالیں ہیں جن کے خلاف انسانی ضمیر کو بغاوت کرنی چاہیے۔می واقعات اسلامی نظریات اور احکامات سے کتنا دور ہیں، اس کا اندازہ قرآنِ کریم کی سورۃ البقرۃ آیت 256 سے ہوتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔“ ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ قانون کی رو سے اُن فیصلوں کی نظیر نہیں پیش کی جاسکتی جن کا حوالہ شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے فیصلے میں دیا ہے اور اس قسم کی مثال بطور ثبوت کے پیش کرنا ایک غیر متعلقہ دلیل ہے۔1968ء کے اسی عدالتی فیصلہ میں لکھا ہے: The whole burden of argument of petitioners learned counsel was that Ahmadis are now a sect of Islam and the petitioners right to guaranteed by the constitution۔But learned counsel 302 SO say is