احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 303
overlooks the fact that Ahmadis as citizens of Pakistan are also guaranteed by the Constitution the same freedom to profess and proclaim that they are within the fold of Islam۔۔۔۔( PLD1969 Lahore 289) ترجمه: درخواست گزار کے وکیل کی بحث کا دارو مدار اس پر تھا کہ احمدی اسلام کا فرقہ نہیں ہیں اور آئین کی رو سے درخواست گزار کو ایسا کہنے کا حق پہنچتا ہے لیکن فاضل وکیل اس بات کو نظر انداز کر گئے کہ پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے احمدیوں کو بھی یہی آزادی حاصل ہے کہ اس بات کا اظہار اور اعلان کریں کہ وہ مسلمانوں میں شامل ہیں۔مخالفین کی طرف سے بار بار نچلی سطح کی عدالت کے چند فیصلوں کی مثال پیش کی جاتی ہے لیکن بعض اور اہم فیصلوں کا ذکر ہی غائب کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان فیصلوں کے مطابق احمدیوں کے خلاف چلائی جانے والی شورش کے مطالبات ہی غیر آئینی تھے۔جب ہم 1984ء سے قبل کئے جانے والے تمام فیصلوں کو سامنے رکھیں تو بالکل مختلف صورت حال سامنے آتی ہے۔جماعت احمدیہ کے خلاف قوانین بننے کے بعد جماعت احمدیہ کو بہت سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور مقدمات میں مخالفین جماعت کی طرف سے یہ نکتہ بار بار اٹھایا گیا کہ چونکہ پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اس لئے وہ اسلامی شعائر استعمال نہیں کر سکتے اور مختلف عدالتی فیصلوں میں بھی اس موضوع پر کئی مرتبہ بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ان میں سے ایک اہم فیصلہ وہ تھا جب کچھ احمدیوں نے شرعی عدالت میں جنرل ضیاء صاحب کی طرف سے جماعت احمدیہ کے خلاف جاری کئے جانے والے آرڈینس کو چیلنج کیا 303