احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 260
اعتراضات پیش کئے گئے ہیں وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ان کی بنیا دوہی بے بنیاد اور خلاف واقعہ الزامات ہیں جو کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے عرصہ دراز سے لگائے جاتے رہے ہیں۔انہی پرانی غلطیوں کو جمع کر کے ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ تفصیلی فیصلہ انٹرنیٹ پر موجود ہے اور ہر دلچسپی رکھنے والا ان کا موازنہ ان حقائق سے کر سکتا ہے جنہیں اس مضمون میں پیش کیا گیا ہے۔شروط عمریہ کی حقیقت اس فیصلہ میں درج چند امور اسلام کے مخالفین کو مذہب فطرت ”اسلام“ کے خلاف ناحق طور پر بہت سا مصالحہ فراہم کرنے کے مترادف ہو گا جس کو پھر یہ طبقہ اپنی اسلام مخالف مہم میں استعمال کر سکتا ہے۔چنانچہ اس بارے میں حقائق کا جاننا اور ایسے امور کی مدلل تردید کرناضروری محسوس ہوتا ہے۔فیصلہ مذکورہ بالا میں مسلمانوں اور شام کے عیسائیوں کے درمیان ہونے والے ایک معاہدہ کا بار بار حوالہ دیا گیا ہے۔یہ معاہدہ ” شروط عمریہ کے نام سے معروف ہے۔اس معاہدے کے متعلق ایک گروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں طے پایا تھا۔چنانچہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی صاحب کے تفصیلی فیصلہ میں سب سے پہلے اس معاہدے کا ذکر صفحہ 19 پر ملتا ہے۔اور یہاں پر Amicus Curiae ( وہ ماہرین جنہیں عدالت اپنی اعانت کے لئے طلب کرتی ہے ) میں سے حافظ حسین احمد مدنی صاحب کی آراء کا ذکر ہے۔یہاں پر لکھا ہے کہ اجماع صحابه شروط عمریہ سے یہ معلوم ہوتا ہے: 260