احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 207
بنیادی حقوق بیان کیے گئے ہیں شروع ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ: "Any law, or any custom or usage having the force of law, in so far as it is inconsistent with the rights conferred by this Chapter, shall, to extent the of such inconsistency, be void۔" ترجمہ: کوئی قانون، کوئی رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو ، تناقض کی اس حد تک کا لعدم ہو گا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔تو حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی ایسا قانون بنانے کی اجازت ہی نہیں جو کہ ان حقوق کو منسوخ کرے یا ان میں کمی کرے۔جب جماعت احمدیہ کے وفد سے سوال و جواب شروع ہوئے تو پہلے روز ہی بیٹی بختیار صاحب نے حضرت امام جماعت احمدیہ سے یہ سوال کیا کہ آپ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمیں یہ کہے کہ تم غیر مسلم ہو اور اس ضمن میں آئین کی شقوں کا حوالہ دیا ہے۔اس پر حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا: "8 and 20l rely on clauses ہماری جو کانسٹی ٹیوشن ہے اس کی غالباً دفعہ 8 ہے جو یہ کہتی ہے کہ اس ہاؤس کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ جو اس نے حقوق دیئے ہیں ان میں کوئی کم کرے یا اس کو منسوخ کرے۔“ ( کارروائی صفحہ 38 ) 1974ء میں اٹارنی جنرل صاحب کے اُٹھائے گئے سوالات اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا: "I will ask a very simple question۔Is the parliament competent to amend article 8 and article 20۔" 207