احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 180 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 180

بہر حال شام کی خبروں کا وقت ہوا تو اسی ملی جلی کیفیت کے ساتھ سب ٹی وی کے اردگرد جمع ہو گئے۔یکلخت سکرین پر پولیس کی معیت میں بیٹھے ہوئے مولانا اسلم قریشی صاحب نظر آئے۔ہاں وہی اسلم قریشی جن کے متعلق یہ دعوے تھے کہ احمدیوں نے بلکہ امام جماعت احمدیہ نے اغواء کروا دیا ہے۔ہاں وہی اسلم قریشی صاحب جن کے متعلق مخالفین نے اشتہار دیا تھا کہ اگر احمدیوں سے اس کا پتہ نہ ملے تو ہمیں چوک میں گولی مار دینا۔ہاں وہی اسلم قریشی صاحب جن کی شہادت کی روح فرسا خبر مخالفین جماعت ایک عرصہ سے اپنے بیانات میں قوم کو سنا کر اشتعال دلا رہے تھے اور ان کے قتل کی وجہ سے احمدیوں کو گردن زدنی قرار دے رہے تھے۔ہاں وہی اسلم قریشی صاحب جن کے اغواء اور شہادت کی وجہ سے پورا ملک ایک ہیجان میں مبتلا رہا تھا۔آج وہی اسلم قریشی شہید مجاہد ختم نبوت ہمیں سکرین پر زندہ سلامت جلوہ افروز نظر آرہے تھے۔بہر حال یہ سوال ہر ذہن میں تھا کہ یہ حضرت آخر تھے کہاں ؟ پولیس نے کہا کہ یہا اپنی مرضی سے ایران گئے تھے اور اپنی مرضی سے ہی وہاں سے واپس آگئے ہیں۔اب ان مولانا کی کہانی ان کی اپنی زبانی سنیں۔ان صاحب نے فرمایا کہ ملک سے چلا جانا اصل میں میری اسلامی سوچ کا نتیجہ تھا۔یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہاں توہین رسالت ہوتی تھی۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔میں نے اس طرح جانے کی با قاعدہ منصوبہ بندی کی تھی۔میں اپنے غائب ہونے کی جگہ سے نکلا اور لاہور آ گیا۔وہاں سے ملتان اور ملتان سے سندھ گیا اور وہاں کچھ عرصہ حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی کے مزار پر رہا۔وہاں سے گوادر آ گیا اور 4 یا 6 ماہ پاکستان میں رہا اور اپنے گم ہونے پر تقریریں بھی سنتار ہا اور پھر ایران کی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں مزدوری کرنے لگا لیکن یہ مشقت کا کام تھا اور مجھے مشقت کی عادت نہیں تھی۔چنانچہ میں ایران آ گیا اور وہاں سیستان میں امام کی نوکری مل گئی۔پھر فوج 180