احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 107 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 107

(Proceedings of The Special Committee of the Whole House Held In Camera To Consider Qadiani Issue۔6th August 1974p 249) اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اصل میں اس واقعہ میں صرف تیرہ افراد کو ضربات خفیفہ لگی تھیں۔اس عدالتی فیصلہ میں زخمیوں کی حالت اور تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔عدالتی فیصلہ کے صفحہ 56 سے صفحہ 59 تک یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ 29 مئی کے بعد حکومت نے بڑی کوشش کی کہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں نہ پیش ہو لیکن لوگوں کے رد عمل نے دباؤ ڈالا اور اپوزیشن نے جان فشانی دکھائی تب جا کر حکومت مجبور ہوئی کہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہو اور جماعت احمدیہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا اور ان کا موقف سنا گیا اور سوال جواب ہوئے تب قومی اسمبلی کے اراکین اس نتیجہ پر پہنچے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ جس وقت اپوزیشن نے پہلی مرتبہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوشش کی اُس وقت بجٹ پر بحث ہو رہی تھی اور حکومت کا موقف یہ تھا کہ جب بجٹ پر بحث ختم ہو جائے گی تب یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔30 جون کو بجٹ کی بحث کے ختم ہوتے ہی اپوزیشن نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے اپنی قرارداد پیش کی اور وزیر قانون نے کہا کہ ہم اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ خیر مقدم کرتے ہیں۔اُس وقت وزیر اعظم ایوان میں موجود تھے۔ابھی تو جماعت احمدیہ کا موقف پیش بھی نہیں کیا گیا تھا۔(نوائے وقت یکم جولائی 1974 ، صفحہ 1 ،19741 Dawn, 1st July) اس سے بھی قبل اپریل 1974ء میں رابطہ عالم اسلامی کا اجلاس مکہ مکرمہ میں ہوا اور اس میں احمدیوں کے بارے میں یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ ان کے کفر کا اعلان کرنا چاہیے اور اس پر پاکستان کے فیڈرل سیکرٹری ٹی ایچ ہاشمی صاحب نے بھی دستخط کئے۔107