احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 106
ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، اس کی جماعت پر خود ایجنٹ ہونے کا الزام تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لگایا گیا تھا۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 صفحہ 49 و12 ) ابوالکلام آزا دسوانح و افکار از شورش کا شمیری فروری 1988ء مطبوعات چٹان لاہورصفحہ 234) فیصلہ میں 1974ء کے فسادات کے آغاز کا ذکر اس عدالتی فیصلہ میں جب وہ مرحلہ آیا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات شروع ہوئے تھے تو شاید ان فسادات کا جواز ثابت کرنے کے لئے لکھا ہے کہ جب 29 مئی 1974ء کو ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر ربوہ کے لڑکوں اور نشتر میڈیکل کالج کے طلباء میں تصادم ہوا تو 50 طلباء بری طرح زخمی ہوئے اور ان میں سے 13 کی حالت Serious (خطرناک) تھی۔(صفحہ 56) جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے بار بار 1974ء میں ہونے والی پیش کمیٹی کی کارروائی کا حوالہ دیا ہے۔جب 6 اگست کی کارروائی ہو رہی تھی تو حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے اس بات کی نشاندہی فرمائی تھی کہ ربوہ کے سٹیشن کے واقعہ میں صرف تیرہ بچوں کو ضربات خفیفہ آئی تھیں۔اور اس کے بعد احمدیوں کے سینکڑوں مکانوں اور دکانوں کو جلا دیا گیا ہے۔اس وقت یقینی طور پر حکومت کے پاس ان زخمیوں کے بارے میں حکومت کے اپنے ڈاکٹروں کی رپورٹ آچکی تھی۔اگر یہ بات غلط ہوتی تو ناممکن تھا کہ اسی وقت اس بیان کی تردید نہ کر دی جاتی لیکن اس کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے کہا۔"I agree with you they should be punished" ترجمہ: میں آپ سے متفق ہوں۔انہیں سزاملنی چاہیے۔106