احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 85 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 85

کمال حسین صاحب کی کتاب کے صفحہ 59 سے صفحہ 103 تک ان پیچیدہ مذاکرات کی تفصیلات لکھی ہوئی ہیں۔ہر کوئی انہیں پڑھ کر اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکتا ہے۔وہ مرحلہ جب ایم ایم احمد ایک روز کے لئے مذاکرات میں شامل ہوئے ، ان ایک دو مواقع میں شامل تھا جب مفاہمت ہوتی نظر آ رہی تھی ورنہ جیسا کہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ عمومی طور پر مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔اگر اسی طرح سب مفاہمت کی سوچ کے ساتھ مذاکرات کر کے پیش رفت کرتے تو اس سانحہ کی نوبت نہ آتی لیکن حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ شروع ہی سے صدر یحیی خان صاحب کا ارادہ ہی نہیں تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔چنانچہ مذاکرات کے دوران ہی ملٹری آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔(Bangladesh Quest for Freedom and Justice, by Kamal Hossain, published by Oxford University Press 2013, p101-102) (The Report of the Hamoodur Rahman Commission, published by Vanguard, p 88,93) حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی گواہی جیسا کہ ہم حوالہ درج کر چکے ہیں ، اس فیصلہ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ 1971ء میں ملک ٹوٹنے کا سانحہ بھی ایک احمدی کی وجہ سے ہوا۔جس حوالے سے یہ الزام لگایا ہے وہ تو واضح طور پر غلط ثابت ہوتا ہے لیکن کوئی معترض یہ الزام لگا سکتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایم ایم احمد پانچ سالہ منصوبوں کو بنانے کے انچارج نہ ہوں لیکن 1960ء کی دہائی میں ملک کے اقتصادی نظام میں آپ کا بہر حال ایک نمایاں مقام تھا اور آپ کی بنائی ہوئی اقتصادی پالیسیاں ایسی تھیں بلکہ ایک سازش کے تحت ایسی بنائی گئی تھیں کہ ملک میں ایسے حالات پیدا ہوئے اور ملک کے دو حصوں میں فرق اتنا بڑھ گیا کہ اس کی وجہ سے ملک تقسیم 85