احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 69
قرار داد منظور کی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔یہ تو بیانات کا تذکرہ تھا۔اُس وقت احمدیوں کے خلاف شورش کی جس میں احمدیوں کو قتل کرنے اور ملک سے باہر نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں ، اُس وقت کی پنجاب حکومت مالی نوازشوں سے اس شورش کی مدد کر رہی تھی۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت میں یہ ثابت ہوا کہ پنجاب حکومت نے احسان ، مغربی پاکستان، زمیندار، آفاق جیسے اخبارات کو تعلیم بالغاں کے فنڈ سے رقم نکال کر بطور رشوت دیئے اور ان اخبارات نے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز مضامین شائع کئے۔اور اسی طرح اس رپورٹ میں اعتراف کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت نے محکمہ اسلامیات قائم کیا جس کے فنڈز سے ان علماء کو مالی طور پر نوازا گیا جو کہ جماعت احمدیہ کے خلاف شورش میں سرگرم تھے اور یہ سب کچھ پاکستان کے لوگوں کے دیئے گئے ٹیکس سے کیا گیا۔پولیس نے مخالفین جماعت کی طرف سے ایسا سرکلر بھی پکڑا جس میں لکھا گیا تھا کہ جو چوہدری ظفر اللہ خان کا گلا کاٹے گا وہ جنت میں جائے گا۔اس کے باوجود نہ وزیر اعظم کی طرف سے اور نہ کسی اور سطح پر پنجاب حکومت ، ممتاز دولتانہ صاحب یا پنجاب مسلم لیگ کی کونسل کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی گئی۔ہم نے صرف ٹھوس حقائق پیش کئے ہیں اور تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے حوالے درج کئے جارہے ہیں۔پڑھنے والے خود آزادانہ رائے قائم کر سکتے ہیں کہ کیا اس پس منظر میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر پر جو اسلام کی فضیلت پر تھی اور اس میں کسی فرقہ کے خلاف نفرت انگیزی نہیں کی گئی تھی کوئی اعتراض ہو سکتا ہے؟ ( رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے فسادات پنجاب 1953 صفحہ 97-88,98-83,90-48,55,77,85, (18,24,36,44 69 69