احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 33 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 33

درج کر دیئے ہیں جو نہ صرف احمدیوں کی لکھی ہوئی نہیں ہیں بلکہ اس میں بعض مقامات پر احمدیوں کے خلاف بھی لکھا گیا ہے، تو حیرت ہوتی ہے کہ جب یہ مہم کامیابی سے چل رہی تھی تو پھر بجائے شکر ادا کرنے کے احمدیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کا کون سا موقع تھا ؟ آخر کون سا گر وہ اس مہم سے سخت نالاں تھا جس کا ایجنڈا پورا کرنے کے لئے مظلوم مسلمانوں کے لئے مہم چلانے کی بجائے احمدیوں کو کا فرقرار دینے کی مہم شروع کر دی گئی ؟ اس سوال کا جائزہ لینے کے لئے ہم ایک بار پھر ان کتب کے ہی حوالے پیش کریں گے جن کے مصنفین کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں۔ہے۔کشمیر کمیٹی کی تحریک کے خلاف رد عمل جو نہی اس مہم نے زور پکڑا کٹر ہندو پریس میں خاص طور پر شدید بے چینی کا اظہار شروع ہو گیا۔انہوں نے ایک متعصبانہ انداز میں اس تحریک کے خلاف مہم شروع کی۔اس تحریک میں ملاپ، پرتاپ اور ٹریبیون اخبارات پیش پیش تھے۔انہوں نے اس تحریک کو ہندو مسلم فسادات قرار دیا۔انہوں نے کٹر ہندوؤں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ ہندو کی حکومت کی جگہ مسلمان کی حکومت قائم کرنے کی سازش ہے۔علامہ اقبال نے اس کی تردید کی کوشش کی اور کہا کہ ہندووں کو مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ تحریک چلانی چاہیے۔بہر حال یہ صورت حال کانگرس کے لئے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی کیونکہ جب اس تحریک کو چلتے ہوئے دو تین سال ہو گئے اور استقلال کے ساتھ کام جاری تھا۔کانگرس کی اعلانیہ ہمدردیاں مہاراجہ کشمیر کے ساتھ تھیں۔کچھ ہندوؤں نے علامہ اقبال سے بھی رابطہ کیا اور اس کا ذکر علامہ اقبال نے اپنی تقریر میں بھی کیا اور اس تحریک کے خلاف مہم کو ختم کرنے کا کام کانگرس کے لیڈر مولانا 33