احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 28
تحریک کے ساتھ اقبال کا اپنا قریبی تعلق تھا۔جیسا کہ پڑھنے والے خود محسوس کر سکتے ہیں کہ اس تحریر کے اندر تضاد موجود ہے۔اس حصہ میں ان بہت سی باتوں کی تردید موجود ہے جو کہ جماعت احمدیہ کے خلاف اس فیصلہ میں لکھی گئی ہیں اور جو خود علامہ اقبال کی ان تحریروں میں موجود ہیں۔ان دونوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ بانی جماعت احمدیہ کے دعاوی ہی ایسے ہیں جو خلاف اسلام ہیں اور جب بھی عالم اسلام میں ایسے دعاوی پیش کئے گئے کسی مسلمان نے کسی دلیل یا سوچ بچار کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی بلکہ ان کے خلاف شدیدردعمل دکھایا بلکہ جہاد شروع کر دیا۔یہ دعاوی ایسے ہیں کہ ان کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کیا جائے۔یہ سب جانتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا انتقال 1908ء میں ہو گیا تھا اور اُس وقت تک آپ کے تمام دعاوی سامنے آچکے تھے۔پھر 1930 ء تک علامہ اقبال جماعت احمد یہ کے بارے میں نرم گوشہ کیوں رکھتے تھے؟ 1934 ء سے قبل علامہ اقبال کے احمدیت کے بارے میں خیالات حج صاحب نے اس فیصلہ میں کچھ مہم اور نرم الفاظ استعمال کئے ہیں۔اس نرم گوشہ“ کی کچھ تفصیلات ہم علامہ اقبال کے صاحبزادے مکرم جسٹس جاوید اقبال صاحب کی تصنیف زندہ روڈ سے پیش کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں: 1۔1900ء میں علامہ اقبال نے بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق فرمایا کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں میں موجودہ دور میں غالباً سب سے عظیم دینی مفکر ہیں۔28