احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 15
بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ بھی آیا تھا۔صحیح بخاری میں اس بارے میں یہ روایات بیان کی گئی ہیں۔" عبد اللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب مسیلمہ کذاب مدینہ آیا تو بنت حارث کے ہاں اس نے قیام کیا کیونکہ بنت حارث بن کریز اس کی بیوی تھی۔یہی عبداللہ بن عامر کی بھی ماں ہے۔پھر حضور اکرم اس کے ہاں تشریف لائے۔آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس" بھی تھے۔ثابت وہی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کے نام سے مشہور تھے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آکر ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی۔مسیلمہ نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو آپ ہمارے اور نبوت کے درمیان حائل نہ ہوں اور اپنے بعد ہمیں اسے سونپ دیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم مجھ سے یہ چھڑی مانگو گے تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دے سکتا۔میرا خیال ہے کہ تم وہی ہو جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے۔یہ ثابت بن قیس ہیں جو میری طرف سے تمہاری باتوں کا جواب دیں گے۔“ ( صحیح بخاری۔کتاب المغازی۔باب قصۃ الاسود العنسی ) یہی روایت صحیح مسلم کتاب الرؤیا میں بھی بیان کی گئی ہے۔ان روایات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دعویٰ نبوت کر دیا تھا اور اسی کیفیت میں وہ مدینہ بھی آیا تھا مگر اس کے با وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کے قتل کوئی حکم صادر فر ما یا تھا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی لشکر روانہ فرمایا تھا اور نہ اس کے خلاف کسی اور کارروائی کا حکم فرمایا تھا۔حضرت ابوبکر کے دور میں اس کے خلاف اس وقت فوج روانہ کی گئی تھی جب اس نے 15