احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 308
سے متفق ہوں کہ یہ شعائر ہیں لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان شعائر کو اپنا نا ان میں مداخلت کس طرح ہو سکتا ہے۔چونکہ قادیانی بھی اپنے ضمیر کے مطابق انہیں اللہ کے حکم کی اطاعت کے لئے فرض سمجھتے ہیں، اس لئے یہ قادیانیوں کے لئے بھی اچھے شعائر ہیں۔اس بناء پر 1978ء میں جسٹس آفتاب حسین صاحب نے مخالفین جماعت کی یہ استدعا نا منظور کر دی تھی کہ احمدیوں کو اذان جیسے شعائر کے استعمال کرنے سے روکا جائے۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ انہی آیات کریمہ اور احادیث کی بناء پر 1978ء میں جو چیز جائی تھی وہ انہی آیات کریمہ اور احادیث کی بناء پر 1984ء میں ناجائز کس طرح ہو گئی؟ 1984ء میں جنرل ضیاء صاحب نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک آرڈیننس جاری کیا۔اس میں دیگر پابندیوں کے علاوہ یہ پابندی بھی لگائی گئی کہ احمدی اپنی عبادت گاہ کے لئے مسجد“ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتے اور نماز سے پہلے اذان نہیں دے سکتے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، ایک احمدی وکیل مکرم مجیب الرحمن صاحب اور چند اور احمدیوں نے اس آرڈینس کو اس بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا کہ یہ پابندیاں قرآن وسنت کے خلاف ہیں۔اس بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس آفتاب حسین صاحب کی سر براہی میں ایک بینچ نے جو فیصلہ سنایا اس میں قرآن وحدیث کے حوالے درج کر کے یہ اعتراف کیا ہے کہ The Jurists have for this reason taken the view that whoever calls Azan should be treated to be a Muslim۔If people give evidence in respect of a Zimmi (protected non-Muslims) that he had called Azan he should be treated as a Muslim۔(Bahrur Raiq, Vol۔I, by Ibne Nujaim, page 279, Raddul Mukhtar by Ibne Aabideen, Vol۔1, page 353) 308