احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 307 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 307

اس بات کی اہمیت کو واضح کر دیتی ہے کہ اس بارے میں قانون سازی کی جائے کہ غیر مسلم اسلامی شعائر کو اختیار نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ قانون سازی کرتے ہوئے اسلامی ریاست کو اس بات کا اختیار ہے کہ اُن غیر مسلموں کے لئے سزا مقرر کرے جو کہ اسلامی شعائر کو اختیار کرنے سے باز نہیں آتے جیسا کہ اس نافذ ہونے والے آرڈیننس میں کیا گیا ہے۔اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ 1978ء میں کئے جانے والے فیصلے میں اس بارے میں کیا لکھا تھا۔اس سے پہلے ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ 1978 ء کے اس فیصلہ میں جسٹس آفتاب حسین صاحب نے اپنی رائے لکھنے سے قبل بہت سی آیات کریمہ اور احادیث کا حوالہ دے کر نتیجہ نکالا تھا اور معین طور پر سورۃ توبہ کی اس آیت کا حوالہ بھی دیا تھا جس کا حوالہ 1984ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ میں دیا گیا تھا۔جسٹس آفتاب حسین صاحب نے 1978ء کے فیصلہ میں درج ذیل نتیجہ نکالا تھا: The learned counce I argued that to allow the non-Muslims to offer prayer and to call Azan is an but شعائر agree that these are شعائر اسلام۔interference with I am unable to appreciate that adaption of these lis interference with them۔They are good for Qadianis since they consider them necessary as a matter of conscience to perform the duty of obedience to Allah۔(PLD 1978 Lahore 113 ) ترجمه: فاضل وکیل نے ( یعنی مخالفین جماعت کے وکیل نے ) یہ دلیل دی ہے کہ غیر مسلموں کو نماز پڑھنے اور اذان دینے کی اجازت دینا شعائر اسلامی میں مداخلت ہے۔میں اس بات 307