احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 304 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 304

تھا۔اس عدالت کے عجیب و غریب تفصیلی فیصلہ کا اکثر حصہ ان امور کے متعلق تھا ہی نہیں جنہیں عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا یا جن کے بارے میں ان احمدیوں نے عدالت میں دلائل دئے تھے۔فیصلہ کے آخر میں ان امور کا کچھ تذکرہ کیا گیا تھا جن کے بارے میں عدالت میں بحث ہوئی تھی اور اس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ چونکہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اس لئے انہیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔جب بھی جماعت احمدیہ کے خلاف کچھ لکھا جاتا ہے تو بسا اوقات اس فیصلے کا ضرور ذکر کیا جاتا ہے۔شرعی عدالت کے جس بینچ کے سامنے یہ فیصلہ پیش ہوا اس کی سر براہی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ، جسٹس آفتاب حسین صاحب کر رہے تھے۔یہاں پر ایک دلچسپ پہلو کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ 1978ء میں جسٹس آفتاب حسین لاہور ہائیکورٹ میں جج تھے اور اُس وقت بھی ان امور کے بارے میں ایک مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوا تھا۔یہ مقدمہ ڈیرہ غازی خان کی ایک مسجد کے بارے میں تھا۔اُس وقت بھی جماعت کے مخالفین نے اس قسم کے نکات اُٹھائے تھے کہ چونکہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اس لئے اب انہیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور یہ ان شعائر کی بے حرمتی ہے کہ انہیں احمدی استعمال کریں۔مناسب ہوگا کہ 1978 ء میں لاہور ہائیکورٹ میں اور 1984ء میں وفاقی شرعی عدالت میں ہونے والے ان فیصلوں کا موازنہ کیا جائے کیونکہ 1978ء میں ہونے والا ہائیکورٹ کا فیصلہ جسٹس آفتاب حسین صاحب نے لکھا تھا اور وفاقی شرعی عدالت کے جس بینچ نے فیصلہ سنایا تھا اس کی سربراہی بھی جسٹس آفتاب حسین صاحب کر رہے تھے۔لازمی طور پر اس بات کی نشاندہی کی جائے گی کہ ان دونوں فیصلوں کے درمیان 1984ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک آرڈیننس نافذ کیا گیا تھا۔اور یہ قانون اُس وقت موجود 304