احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 300 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 300

برٹش دور میں ریاست بہاولپور کے ایک فیصلہ اور سیشن کورٹ راولپنڈی کے ایک فیصلے کے حوالے بھی دیئے ہیں۔سب سے پہلے آخری دو مثالوں کے بارے میں کچھ ذکر کیا جائے گا۔ریاست بہاولپور کا فیصلہ 1935ء میں ڈسٹرکٹ بہاولنگر کے حج محمد اکبر صاحب نے سنایا تھا اور دوسرا فیصلہ 1955ء میں ڈسٹرکٹ حج کیمبل پور راولپنڈی شیخ محمد اکبر صاحب نے سنایا تھا۔ان فیصلوں کا حوالہ صرف شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے فیصلہ میں ہی نہیں دیا تھا بلکہ جب 1974ء میں پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی نے جماعت احمدیہ کے بارے میں کارروائی کی تو اس وقت بھی ان فیصلوں کی مثالیں پیش کی گئی تھیں بلکہ جب کئی دہائیوں کے بعد یہ کارروائی شائع ہوئی تو ان فیصلوں کے مکمل متن اس کا رروائی میں شائع کئے گئے اور جماعت احمدیہ کا موقف جو محضر نامہ کی شکل میں وہاں پر دوروز پڑھا گیا تھا وہ شائع نہیں کیا گیا۔بہر حال سب سے دلچسپ اور قابل ذکر حقیقت یہ ہے کہ خود پاکستان کی ایک ہائیکورٹ یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ پاکستان میں ان فیصلوں کی نظیر نہیں پیش کی جاسکتی اور ایسا کرنا ایک غیر متعلقہ بات ہوگی۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ رسالہ چٹان کے ایڈیٹر اور جماعت احمدیہ کے مشہور مخالف شورش کا شمیری صاحب نے 1969ء میں ہائیکورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔اس مقدمہ کی وجہ یہ تھی کہ حکومت مغربی پاکستان نے انہیں نوٹس بھجوایا تھا کہ ان کا رسالہ ایسا مواد شائع کر رہا ہے جس سے مسلمانوں کے فرقوں میں باہمی منافرت پھیل رہی ہے اور اس رسالہ کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا گیا۔اس وقت یہ رسالہ حسب معمول احمدیوں کے خلاف پراپیگنڈا کرنے میں مشغول تھا۔اس مقدمہ میں مغربی پاکستان کی حکومت مدعا علیہ تھی۔مدعی نے اپنی درخواست میں دیگر امور کے علاوہ یہ موقف بھی پیش کیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں اور اس کو ثابت کرنے 300