احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 299
فیصلہ سنایا جاتا ہے تو اس بات کا ضرور حوالہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں پہلے بھی جماعت احمد یہ کے خلاف بہت سی عدالتوں نے فیصلے سنائے اور 1974ء کی آئینی ترمیم کے ذریعہ تو احمد یوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا لیکن اس سے قبل بھی جماعت احمدیہ کو بہت سی عدالتوں نے غیر مسلم قرار دیا تھا۔گویا اس طرح ایک خلاف عقل اور غیر منصفانہ فیصلہ کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ علیحدہ بحث ہے کہ نہ کسی عدالت کا یہ کام ہے اور نہ کسی پارلیمنٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ بوجھ بجھکڑوں کی طرح یہ فیصلہ کرے کہ کسی شخص یا کسی گروہ یا کسی فرقے کا مذہب کیا ہے اور نہ ہی جماعت احمدیہ نے کبھی بھی کسی عدالت یا کسی پارلیمنٹ کا یہ اختیار تسلیم کیا ہے۔البتہ جہاں تک ممکن ہوا حق بات کو عوام تک پہنچانے اور ان پر حجت تمام کرنے کا فرض ضرور ادا کیا ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ سے متعلقہ مقدمات و معاملات میں بہت سے غیر منصفانہ فیصلے سنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود جب اس بارے میں سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا جاتا ہے تو نا مکمل حقائق پیش کئے جاتے ہیں کیونکہ مکمل حقائق ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ خود ہی اس غیر منصفانہ طرز کی تردید ہو جاتی ہے مثلاً 2018ء میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف ہونے والے حج شوکت عزیز صدیقی صاحب کے ایک رکنی بنچ نے جماعت احمدیہ کے متعلق ایک نہایت مخالفانہ تفصیلی فیصلہ سنایا۔جیسا کہ دستور تھا اس فیصلہ میں بھی جماعت احمدیہ کے خلاف کچھ سابقہ فیصلوں کے حوالے دئے گئے اور کچھ متعلقہ فیصلوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا گیا۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کے سامنے مکمل حقائق پیش کر کے ایک مرتبہ پھر حجت تمام کر دی جائے۔اس فیصلہ میں حج موصوف نے وفاقی شرعی عدالت اور پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے دینے کے علاوہ 299