احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 298 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 298

be concluded that the name masjid was the name given to the places of worship of non-Muslims too۔ترجمہ: ابتدا سے یعنی حضرت آدم کے زمانے سے ہی اسلام آسمانی مذہب ہے۔اگر مسجد کا لفظ ان لوگوں کی عبادت گاہوں کے لئے استعمال کیا گیا تھا جو کہ کسی اور نبی کی امت سے وابستہ تھے اور اُس وقت کے رائج اسلام کی پیروی کر رہے تھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ غیر مسلموں کی عبادت گاہ کے لئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔اس تحریر کا اصل میں کیا مطلب تھا اس پر تو شرعی عدالت کے جج صاحبان ہی روشنی ڈال سکتے ہیں! بہر حال پہلی بات تو یہ کہ اس کا زیر بحث موضوع سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ”عدالت عالیہ کے مطابق جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں شامل ہوئے یعنی یہود وہ تو مسلمان کہلا سکتے ہیں لیکن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کو ہر معاملہ میں آخری فیصلہ سمجھتے ہیں وہ مسلمان نہیں کہلا سکتے ! (اُس وقت یہ پابندی لگا دی گئی تھی کہ عدالت میں ہونے والی بحث کی رپورٹ اخبارات میں شائع ہو اور جماعت احمدیہ کو بحث کی ریکارڈنگ بھی مہیا نہیں کی گئی تھی۔اس لئے بحث کی تفصیلات مکرم یوسف سلیم شاہد صاحب اور مکرم یوسف سہیل شوق صاحب نے نوٹ کی تھیں۔اور اس مضمون کے لئے اسی سے استفادہ کیا گیا ہے۔)۔۔۔۔۔نظر انداز کئے جانے والے پاکستانی عدلیہ کے بعض فیصلے پاکستان میں جب بھی جماعت احمدیہ کے خلاف کوئی کتاب لکھی جاتی ہے یا غیر منصفانہ 298