احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 297
الفظ مسجد استعمال کیا گیا ہے؟ اس کا جواب انہوں نے پہلے نفی میں دیا پھر ایک تصویر مہیا کی جس میں کراچی میں یہودیوں کی عبادتگاہ پر مسجد بنی اسرائیل لکھا ہوا تھا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عدالت میں یہ ثابت کر دیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں یہ لفظ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے لئے استعمال نہیں ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہوں کے لئے لفظ مسجد استعمال کیا ہے تو پھر کوئی اور نظیر ڈھونڈنے کی ضرورت کیا پیش آئی تھی ؟ پھر اس عدالتی فیصلہ میں لکھا ہے کہ The question whether places of worship of persons other than those who are followers of the Holy Prophet have been called in the Quran by the name of masjid is besides the point۔ترجمہ: یہ سوال کہ کیا قرآن کریم میں لفظ ” مسجد " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کے علاوہ کسی اور کی عبادت گاہ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے؟ غیر متعلقہ سوال ہے۔اس جملے میں بھی عجیب منطق بیان کی گئی ہے یعنی شرعی عدالت کا کام یہ ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق فیصلہ کرے اور وہ اپنے فیصلے میں تحریر کر رہی ہے کہ اس موضوع پر آیات پیش کرنا غیر متعلقہ ہے ! ان کا تو فرض تھا کہ سب سے زیادہ توجہ قرآن کریم کی آیات کی طرف کرتے۔اس عجیب و غریب منطق کی توجیہ اس فیصلہ میں دیکھی ہے: Islam has been the divine religion from the very beginning, i۔e۔starting with Adam۔If the word masjid has been used for the places of worship of those who belonged to the Ummah of some other Prophet and followed the then prevailing religion of Islam, it cannot 297