احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 296
موصوف دیوبند میں مدرس تھے اور بعد میں صدر مدرس بھی مقرر ہوئے۔ان کا سن وفات 1933ء ہے۔اس کتاب میں موجود چند اور باتیں یہاں درج کر دینا مناسب ہوگا تاکہ قارئین پر واضح ہو جائے کہ مصنف کتاب ھذا نے کسی کو بھی کا فرقرار دینے کے لئے کس قدر سہولت بہم پہنچائی ہے۔انہوں نے مختلف کتب سے کافر قرار دینے کے عمل کا نچوڑ پیش کیا ہے۔چنانچہ اس کتاب میں لکھا ہے جو خضر کو نبی نہیں بلکہ ولی جانے وہ کا فر ہے ،ضروریات دین کا منکر واجب القتل ہے، اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا حکم اہل قبلہ حکمرانوں کے لئے ہے، ضروریات دین میں تاویل کرنا بھی کفر ہے، رافضی ، غالی شیعہ کافر ہیں، رافضی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک تھے۔اکفار الملحدین مصنفہ انور شاہ کشمیری صاحب ، مترجم محمد ادریس میرٹھی صاحب ، ناشرالبرہان پبلشرز اکتوبر (۔223۔176۔91۔77۔2001 احمدیوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بطور دلیل پیش کئے گئے تھے اور قاضی مجیب صاحب اپنی طرف سے یہ برہان قاطع لے کر آئے کہ نہیں یہ صحیح نہیں کیونکہ نعوذ باللہ اسلام کی صحیح تعلیمات بانی اسلام نہیں شیخ مراغی صاحب اور انور شاہ کشمیری صاحب ہی دے سکتے ہیں۔وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ میں اس پہلو پر بحث اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں اس پہلو پر کیا روشنی ڈالی تھی۔انہوں نے اس ضمن میں پہلا نکتہ یہ اُٹھایا تھا کہ احمدی وکیل مجیب الرحمن ایڈووکیٹ صاحب نے یہ نکتہ اُٹھایا کہ قرآن کریم میں مسجد کا لفظ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لئے استعمال نہیں ہوا تو ہم نے یہ سوال کیا کہ کیا گزشتہ چودہ سو سال میں غیر مسلموں کی عبادت گاہ کے لئے 296