احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 295 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 295

مواقع پر اسلامی اصطلاحات عام معنی سے ہٹ کر خاص معنوں میں محدود کر دی جاتی ہیں مثلاً صلوٰۃ کا مطلب دعا ہے مگر اسے صرف نماز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ان کا مؤقف تھا کہ اس قسم کی اصطلاحوں کے شرعی مفہوم کو عرف عام کے ذریعہ بدلا نہیں جاسکتا۔لہذا انہوں نے عدالت کے سامنے اس مؤقف کا اظہار کیا کہ ”مسجد“ کا لفظ اسلام میں جو اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس کے خلاف اسے کہیں اور استعمال نہیں کیا جاسکتا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے دلائل پیش کئے جاتے ہیں اور ان میں سے چند حوالے درج کئے گئے ہیں۔قرآن کریم کے دلائل کے جواب میں انہوں نے جو دلیل پیش کی اس کا ذکر کیا جا چکا ہے۔اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے اس بات کا کیا جواب دیا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کے مطابق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود اور نصاریٰ کی عبادتگاہوں کے لئے مسجد کا لفظ استعمال فرمایا تھا۔چنانچہ قاضی مجیب صاحب نے بیسویں صدی کے ایک مصری عالم شیخ مراغی کی کتاب "الزواج والطلاق فی جمیع الادیان “ کا حوالہ دیا کہ اگر چہ دیگر ادیان کے فقہ اور فقہ اسلامی میں بعض الفاظ میں اتحاد ہے لیکن اس وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دونوں الفاظ ایک ہیں۔ان کی طرف سے پیش کی جانے والی دوسری دلیل کتاب اکفار الملحدین “ سے تھی۔ویسے تو کتاب کا نام ہی واضح کر دیتا ہے کہ اس کتاب کا مقصد کفر کے فتاوی کی ترویج تھی۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ اسلام کے اساسی ارکان کی طرح اسلام کے دیگر احکام ہیں۔ان کے مخصوص معانی ہیں۔جو ان کو ان کے اصل معنوں سے نکال کر دوسرے معنوں میں استعمال کرے گا ملحد ہو گا۔اب اكفار الملحدین“ کے مصنف کا کچھ تعارف کروانا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے۔یہ کتاب انورشاہ کشمیری صاحب نے لکھی تھی۔۔295