احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 288
اور اصلی کرنسی جیسی ہو تو یہ دوسرے کے شعار استعمال کرنا نہیں ہو گا۔اس پر مجیب الرحمن صاحب نے جواب دیا کہ ریال سعودی عرب کی کرنسی بھی ہے اور عراق کی بھی کرنسی ہے۔دونوں اپنی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ان میں سے کسی کو بھی جعلی نہیں کہا جاسکتا۔اس کے علاوہ دینی امور مثلاً اذان کو کرنسی یا دوسرے مادی امور سے تشبیہ دینا مناسب نہیں۔مکرم مجیب الرحمن صاحب نے اس ضمن میں مزید دلائل کی بنیاد قرآن کریم کی درج ذیل آیت پر رکھی : قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران:65 ) ترجمہ: تو کہہ دے اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اُس کا شریک ٹھہرائیں گے۔اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا۔پس اگر وہ پھر جائیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ یقینا ہم مسلمان ہیں۔اس آیت کریمہ سے استنباط کرتے ہوئے مجیب صاحب نے کہا کہ قرآن کریم تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مشترک امور کی طرف دعوت دیتا ہے۔کجا یہ کہ ان لوگوں کے مطابق قرآن ان کا استعمال ممنوع قرار دے کر قابل تعزیر جرم بنانے کی تعلیم دیتا ہے اور یہ نکتہ اُٹھایا کہ اپنے مذہب کے شعائر متعین کرنا ہمارا حق ہے۔اور اپنے شعائر ہم خود طے کریں گے۔(امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء۔وفاقی شرعی عدالت مصنفہ مجیب الرحمن صاحب۔ناشر اسلام انٹرنیشنل پلیکیشن 2011 م 69,23 ایک اہم بحث جو اس سلسلہ میں کی گئی وہ لفظ ” مسجد کے استعمال کے بارے میں تھی۔288