احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 280
کہ وہ انہیں استعمال کرے۔قرآن کریم میں شعائر اللہ کا ذکر ان تعریفوں کو درج کرنے سے قبل اس عدالتی فیصلہ میں قرآن کریم کی وہ آیات کریمہ درج کی گئی ہیں جن میں شعائر اللہ کا ذکر ہے اور صفحہ 129 پر یہ تنبیہ درج ہے کہ قرآن کریم میں ان شعائر اللہ کے احترام کا حکم دیا گیا ہے اور اگر اس بارے میں کوتاہی کی جائے تو نہ صرف ذاتی سطح پر بلکہ اجتماعی سطح پر بھی خدا کا قہر آ سکتا ہے۔اس عدالتی فیصلہ میں جو آراء درج ہیں، ان کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد کوئی رائے ظاہر کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ اسلامی قوانین کی سب سے بڑی بنیاد یعنی قرآن کریم شعائر اسلام یا شعائر اللہ کے بارے میں کیا کہتا ہے اور جیسا کہ اس مضمون کے آغاز میں Amicus Curiae یعنی حافظ حسین مدنی صاحب کی رائے درج کی جاچکی ہے کہ قرآن کریم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کو شعائر اللہ کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس بارے میں عرض ہے کہ شعائر اسلام کے الفاظ تو قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں۔البتہ مندرجہ ذیل آیات میں شعائر اللہ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔1 - إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا (البقرة : 159) ترجمہ: یقیناً صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔2 - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدَى وَلَا الْقَائِدَ وَ لَا آمِينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنْ 280