احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 279 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 279

قابل ذکر ہے کہ انہوں نے سارے حوالے دورِ حاضر کے مفسرین کے پیش کئے ہیں مثلاً جسٹس تقی عثمانی صاحب نے شعائر اللہ کا مطلب یہ بیان کیا کہ اس سے مراد شریعت کے وہ اظہار ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے لازمی قرار دیا ہے۔مثلاً حج کی ادائیگی کے لئے جن مقدس مقامات پر جانا پڑتا ہے وہ شعائر اللہ ہیں۔صلاح الدین یوسف صاحب نے شعائر اللہ کی یہ تعریف کی کہ اسلام کے وہ نمایاں اور منفرد احکامات جن کی وجہ سے مسلمانوں کا علیحدہ تشخص قائم ہوتا ہے۔اسحاق مدنی صاحب نے یہ تعریف کی کہ اسلام کا ہر وہ حکم جسے اسلام کی علامت سمجھا جائے شعائر اللہ میں شمار ہوتا ہے۔ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے لکھا کہ ہر وہ چیز جس سے اللہ کی یاد آئے شعائر اللہ ہے۔اسی لئے صفا مروہ اور بیت اللہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔حافظ عبد السلام بٹالوی شعائر اللہ کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا عرفان پیدا کرنے کے لئے قائم کیا ہے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔جسٹس پیر کرم شاہ نے شعائر اللہ کی یہ تعریف کی کہ ہر وہ چیز جو کہ غلط اور صحیح میں فرق کرتی ہے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔عدالتی فیصلہ صفحہ 130-133 ) یہ ظاہر ہے کہ خود اس دور کے علماء بھی اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ آخر شعائر اللہ کہتے کسے ہیں۔آخری تین تعریفوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک شعائر اللہ سے مراد اسلام کی کوئی منفر د علامات نہیں ہیں بلکہ ہر وہ چیز جس سے اللہ کی یاد آئے یا صحیح اور غلط کا فرق ہوشعائر اللہ کہلاتی ہے۔شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے مؤقف میں وزن پیدا کرنے کے لئے اس اصطلاح کی بہت سی تعریفیں درج کیں لیکن اسی رو میں اپنے مؤقف کے خلاف ہی دلائل دے گئے۔کیونکہ ان کے درج کئے گئے دلائل کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ یہ شعائر اسلام کی انفرادی علامات کی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی اور مذہب سے وابستہ شخص کو یہ حق نہیں 279