احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 275
جس کے نتیجہ میں اسلام پر اور ایک خلیفہ راشد پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگوں کے بنیادی حقوق بھی سلب کر لئے تو غیر مسلم مگر انصاف پسند مغربی مصنفین خلیفہ راشد کی معصومیت کو ثابت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ روایات غلط ہیں۔خلفائے راشدین کا سارا طرز عمل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ اس قسم کا ظلم کریں اور دوسری طرف پاکستان کے نام نہاد علماء اپنی اغراض کے لئے اور جماعت احمدیہ کی دشمنی میں یہ اصرار کرتے ہیں کہ ہم نہیں مانیں گے یہی ایک روایت درست ہے اور نعوذ باللہ خلفائے راشدین یہ مظالم روا ر کھتے تھے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت بجائے اس کی مذمت کرنے کے اپنے تفصیلی فیصلہ میں اسے نمایاں کر کے شامل کرتی ہے۔اس طرح یہ لوگ خود اسلام کے دشمنوں کو اسلام پر اعتراض کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔عوام خود تو اس قسم کے معاملات میں تحقیق نہیں کر سکتے۔یہ رویہ پاکستان کے عوام کو بھی یہی سکھا رہا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے۔پاکستان میں احمدیوں پر مختلف بہانوں سے ظلم تو روار کھے ہی جا رہے ہیں مگر خدا کے واسطے اس دشمنی میں اندھے ہو کر اسلام پر اور اسلامی تعلیمات پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین پر حملے کرنا تو بند کر دیں۔اس صورت حال میں انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے اور جماعت احمدیہ کے ایک مخالف کا ہی شعر لکھنے کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اب زبان حال سے کہہ رہا ہے ؎ میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے ☆☆☆ شعائر اللہ اور شعائر اسلامی عدالتی فیصلے اور حقائق اس فیصلہ میں درج چندا مورا اسلام کے مخالفین کو مذہب فطرت ”اسلام“ کے خلاف 275