احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 272 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 272

یہ بات قابل غور ہے کہ ” شروط عمریہ میں تو یہ شرط درج ہے کہ اگر کوئی مسلمان رات کو یا دن کو گرجا میں آرام کرنا چاہے گا تو اسے نہیں روکا جائے گا اور دوسری طرف ان معاہدوں میں صاف یہ لکھا ہے کہ عیسائیوں کے عبادت خانوں کو رہائش کے لئے نہیں استعمال کیا جائے گا۔اسی طرح حضرت عمرؓ کے دور میں اہل مصر سے جو معاہدہ کیا گیا اس میں بھی ان کی مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی اور اُن توہین آمیز شرائط کا نام ونشان نہیں پایا جاتا جو کہ حضرت عمر کی طرف منسوب کی جا رہی ہیں۔اسی طرح جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں آرمینیا کے لوگوں سے معاہدہ کیا گیا تو اس میں بھی یہ شرط موجود تھی کہ مسلمان ان کے مذہب کی بھی حفاظت کریں گے اور اگر وہاں کے لوگ جنگ میں شرکت کریں گے تو پھر اُن سے جزیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا اور اسی طرح آذربائیجان پر قبضہ کے بعد جو معاہدہ ہوا اس میں بھی یہ شرط شامل تھی کہ ان کے مذہب کی حفاظت کی جائے گی۔یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ابھی جن علاقوں کے حوالے دیئے گئے ہیں وہ تمام حضرت عمرؓ کے عہد مبارک میں ہی اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے تھے۔تاریخ طبری اردو تر جمه از سید محمد ابراہیم جلد 3 ناشر دار الاشاعت 2003 ص 125 و 171 و 173 ) یہ تو ثابت ہو گیا کہ جن شرائط کو شروط عمر یہ “ کا نام دے کر شہرت دی جاتی ہے یا تنگ نظر طبقہ اسے اپنے خیالات کی تائید میں پیش کر رہا ہے، وہ شرائط اُن شرائط سے بالکل مختلف ہیں جن کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ معاہدے کیا کرتے تھے اور روایات کا ایک ذخیرہ اس روایت کی تردید کر رہا ہے۔یہ ناممکن تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے ہٹ کر کوئی معاہدہ کرتے۔اب ہم اُس روایت کا تجزیہ کرتے ہیں جس کے حوالہ سے یہ معاہدہ بیان کیا جاتا ہے۔یہ معاہدہ ابن قیم الجوزیہ کی کتاب ” احکام اہل ذمہ“ میں بیان ہوا ہے۔جو اس کی پہلی سند 272