احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 271
جانوں اور ان کے مالوں کو امان دی گئی ہے۔ان کے عبادت خانے صلیبیں، بیمار اور تندرست اور تمام مذاہب والے باشندے امن میں رہیں گے۔ان کے گرجا گھروں کو کوئی مسلمان رہائش کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔نہ ہی ان کو منہدم کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی عمارت اور زمین میں سے کمی کی جائے گی اور نہ ہی ان کی صلیب اور ان کے مال میں سے کوئی کمی کی جائے گی۔ان پر ان کے دین کے متعلق جبر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچایا جائے گا۔۔۔66 تاریخ طبری اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم جلد 2 ناشر دارالاشاعت 2003 ص 807) اس معاہدے میں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایلیاء کے باشندوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بنایا ہے۔اور اس قسم کی شرائط جیسا کہ ” شروط عمریہ نام کی دستاویز میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی گئی ہیں اس میں ہر گز نہیں پائی جاتیں۔پہلے اس علاقہ پر رومی مسیحی قابض تھے۔اس معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ جو کوئی رومیوں کے ساتھ جانا چاہے اسے اس کی آزادی ہو گی۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فلسطین کے باقی علاقوں سے جو معاہدے فرمائے ان میں یہ الفاظ شامل تھے : ان کی جانوں اور ان کے مال و دولت ، ان کے کلیساؤں اور ان کی صلیبوں، ان کے بیمار اور صحتمند اور ان کے تمام مذاہب والوں کو امن دے دیا ہے اور یہ کہ کم از کم عبادت خانوں کو رہائش کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو منہدم کیا جائے گا اور ان کی عمارت اور ان کی صلیبیوں اور مال و متاع میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ان کو مذہب اور دین کے معاملے میں مجبور نہیں کیا جائے گا۔66 تاریخ طبری اردو تر جمه از سید محمد ابراہیم جلد 2 ناشر دار الاشاعت 2003 ص 809,808) 271