احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 270 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 270

گا اور ان کے عبادت خانوں اور عبادت کی حفاظت کی جائے گی۔ان کے پادریوں اور راہبوں اور واقفین کو ان کے کام سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ان کے مذہبی اداروں سے وابستہ جو جائیداد ہے وہ ان کے پاس ہی رہے گی۔یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جن شرائط کو عین اسلام قرار دے کر پیش کیا گیا ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہیں۔حضرت عمر کے دور میں ہونے والے معاہدے ایک ضعیف حوالے کو بنیاد بنا کر تنگ نظر طبقہ یہ الزام لگا رہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایسا معاہدہ کیا گیا جس میں شام کے عیسائیوں کی مذہبی اور معاشرتی آزادی سلب کر لی گئی۔اس معین حوالے کا تجزیہ پیش کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب دوسرے مذاہب کے لوگوں سے معاہدے کئے گئے تو کیا ان میں ان کی مذہبی آزادی سلب کی گئی تھی یا ان میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔حضرت عمرؓ کے دور میں تو اسلامی سلطنت اتنے وسیع علاقے پر پھیل گئی تھی کہ یہ مضمون خفیہ رہ ہی نہیں سکتا کہ اُس وقت اس سلطنت میں غیر مسلموں کے ساتھ کیا رویہ تھا؟ اس بارے میں جو بھی حقائق ہوں وہ کئی حوالوں سے ثابت ہونے چاہئیں۔سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ جب ایلیاء (یروشلم) کے لوگوں سے صلح نامہ ہوا ہے تو اس کی کیا شرائط تھیں؟ یہ عیسائیوں کا مقدس ترین مقام تھا اور اس حوالے سے اس کی ایک اہمیت ہے۔اس شہر کے لوگوں سے مسلمانوں کا معاہد ہ 15 ہجری میں ہوا تھا۔اس معاہدہ میں لکھا گیا تھا: اللہ کے بندے عمرا میرالمومنین نے ایلیاء والوں کو امان دے دی ہے۔ان کو ، ان کی 270