احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 268
ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔اور یہودیوں اور مسیحیوں سے فی کس ایک دینار جزیہ وصول کیا جائے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر ہوگی۔تاریخ طبری اردو تر جمه از سید محمد ابراہیم جلد 2 ناشر دار الاشاعت 2003 ص 388,387) 10 ہجری میں بنو حارث میں جب اسلام پھیلا تو ان کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر ہدایات کے ساتھ یہ ہدایت بھی بھجوائی کہ جو یہودی اور مسیحی اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہے اسے ہرگز اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے اور ہر غیر مسلم شخص۔ایک دینار جزیہ لیا جائے۔تاریخ طبری اردو تر جمه از سید محمد ابراہیم جلد 2 ناشر دار الاشاعت 2003 ص 394,393 ) ان دونوں حوالوں میں اس قسم کی شرائط کہیں پر مذکور نہیں کہ یہودی اور عیسائی مسلمانوں جیسا لباس نہیں پہن سکتے یا ان جیسے بال یا طر ز خطابت نہیں رکھ سکتے۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حارث کے پادری اور نجران کے پادریوں کے نام یہ فرمان بھجوایا تھا کہ جو زمین اور جائیداد ان گرجا گھروں، پادریوں اور درویشوں کے زیر انتظام ہے وہ اسی طرح ان کی ملکیت رہے گی۔اس فرمان میں بھی ان شرائط کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا جن کا حوالہ جسٹس شوکت صدیقی صاحب کے فیصلہ میں دیا گیا ہے مثلاً یہ کہ وہ اپنے گرجوں اور خانقاہوں کی مرمت بھی نہیں کروا سکتے اور نئے گرجے بھی نہیں بنا سکتے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں تو بالکل بر عکس مضمون بیان ہوا ہے اور ملا حظہ ہو کہ نجران کے عیسائیوں کے لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان جاری فرمایا تھا کہ ان کی جان ، مذہب ، عبادت اور عبادت خانوں کی حفاظت کا ذمہ اللہ اور اس کے رسول پر ہے۔اس عہد کی عبارت یہ ہے: 268