احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 267 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 267

بہت سے عیسائیوں اور یہودیوں سے معاہدات کئے گئے تھے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اسلامی قوانین کے سب سے اہم مآخذ ہیں۔اور آئین کے آرٹیکل 227 کی رو سے ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جو کہ قرآن مجید کی تعلیمات اور نبی اکرم صلی ا یتیم کے تعامل کے خلاف ہو۔اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یا ان کی طرف منسوب ہونے والے معاہدوں کے تجزیہ سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سنت رسول اس معاملہ میں کیا را ہنمائی کرتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایسا پہلا معاہدہ مدینہ کے یہود سے کیا گیا تھا اور یہ معاہدہ میثاق مدینہ کے نام سے معروف ہے۔اس میں کہیں اس قسم کی شرائط موجود نہیں کہ مدینہ کے یہود مسلمانوں کی طرح کا لباس نہیں پہن سکتے یا مسلمانوں کی طرح بال نہیں بنا سکتے یا عربی زبان نہیں بول سکتے یا مسلمانوں کی طرح کلام نہیں کر سکتے اور نہ اس معاہدے میں کہیں لکھا ہے کہ مدینہ کے یہود پر اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی پابندی ہوگی۔(سیرت ابن ہشام اردو تر جمه از سید یسین علی حسنی، جلد 1 ناشر ادارہ اسلامیات مئی 1994 ص 336 - 338 ) اور اس کے علاوہ اور بہت سے معاہدات تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہود اور مسیحیوں سے کئے گئے۔مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی فرامین اور خطوط کے متون بھی تاریخ میں محفوظ ہیں جن سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود اور عیسائیوں کے بارے میں اس قسم کی ہدایات جاری فرمائی تھیں جن کا ذکر اس دستاویز میں ہے یا معاملہ اس کے برعکس تھا۔9 ہجری میں حمیر (Himyar) کے رئیس نے اسلام قبول کیا۔ان کے اطاعت کے خط کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط بھجوایا اس میں مسلمانوں کے لئے زکوۃ کے احکامات درج فرمائے اور یہ ہدایت واضح طور پر فرمائی کہ کسی یہودی یا مسیحی کو اپنا مذہب 267