احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 266
مسلمانوں جیسا ہیئر سٹائل بھی نہیں بنا ئیں گے۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہیئر سٹائل سے کیا مراد ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی ماہرین نے جومتن پیش کیا ہے اس میں تو ہیئر سٹائل کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن اس کے جو متن مہیا ہیں ان میں واضح طور پر مانگ نہ نکالنے کا ذکر ہے یعنی ایک اسلامی ریاست میں مسیحیوں پر یہ پابندی ہے کہ وہ مانگ نہیں نکال سکتے اور جو متن اس عدالتی فیصلہ میں درج ہے اس میں یہ وضاحت ہے کہ مسیحیوں کو سامنے کے بال کاٹ کر رکھنے ہوں گے۔اگر اس کا مجموعی جائزہ پیش کریں تو یہ صورت حال سامنے آئے گی کہ مسیحیوں کے بالوں میں مانگ نہ نکالی گئی ہو اور سامنے کے بال کٹے ہوئے ہوں اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو کیا جرم ہوگا؟ اس دستاویز کی رو سے یہ غداری کے زمرے میں شمار ہوگا اور غیر مسلموں کے امن سے رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔پھر یہ پابندی ہے کہ مسیحی مسلمانوں جیسی زبان نہیں بول سکتے۔یہ پابندی بھی بہت سی وضاحتوں کا تقاضا کرتی ہے۔مثال کے طور پر اگر پنجاب میں مسلمان پنجابی یا اردو بولتے ہیں تو کیا غیر مسلموں پر یہ پابندی ہوگی کہ وہ پنجابی یا اردو بول سکیں۔اگر وہ کوئی اور زبان بولیں گے تو وہ کون سی زبان ہوگی اور ان کو کس طرح سکھائی جائے گی ؟ یا پھر انہیں کسی اور لب و لہجے میں بات کرنا سکھایا جائے گا۔جب اس قدر پابندیاں ہیں تو اس نکتے پر بحث کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس دستاویز کی رُو سے مسیحی اپنی حفاظت کی غرض سے ہی سہی اسلحہ رکھنے کے مجاز بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں! رسول اللہ صلی ستم کا اسوہ حسنہ کیا تھا ؟ اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ان شرائط اور پابندیوں کی تصدیق کرتی ہے یا معاملہ کچھ اور ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں بھی تو 266