احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 250
صاحب کے نزدیک نعوذ باللہ عظمت رسول اگر کہیں محفوظ تھی تو حیدر آباد دکن کی ریاست میں تھی۔جماعت احمدیہ کے ان مخالفین کو یہ بھی علم نہیں کہ عظمت رسول کی محافظ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ انعام کے لالچ میں ایک نواب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظمت کو امان دینے والا قرار دے رہے تھے۔اگر ساری دنیا کی حکومتیں بھی مل کر حملہ آور ہوں تو صرف خدا ہی عظمت رسول کی حفاظت کے لئے کافی ہے ( اور یہ وہ ریاست تھی جو انگریز کی مدد کے بغیر اپنی حفاظت خود بھی نہیں کر سکتی تھی اور پھر وہ لکھتے ہیں جو یہاں امیر المومنین ہے وہ سب سے بڑھ کر فدائے سید المرسلین ہے۔سبحان اللہ۔( قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، مصنفہ الیاس برنی، ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان جنوری 2001، صفحہ 9) یہ عمل صرف سات آٹھ سو سال تک جاری نہیں رہا تھا بلکہ جب پہلی جنگ عظیم کے بعد تحریک خلافت چلائی گئی تو اس تحریک کی طرف سے ترکی کے سلطان کو عقیدت سے لبریز خط لکھے گئے۔ان میں سلطان عبد الوحید کو دیگر القابات کے علاوہ امیر المومنین کے لقب سے بھی مخاطب کیا گیا۔(The Indian Muslims-A Documentary Record 1900-1947 Vol VI, compiled by Shan Muhammad Prakashan Meerut Dehli 1983,p251) " published by Meenakshi جماعت احمدیہ پر تو یہ پابندی لگا دی گئی لیکن مخالفین جماعت کو گزشتہ چند دہائیوں میں ایک کے بعد دوسرا نام نہاد امیر المومنین دیکھنا پڑا۔پہلے طالبان کے لیڈر ملا عمر نے امیر المومنین ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر داعش (ISIS) کے قائد ابوبکر بغدادی نے خلیفہ ہونے کے ساتھ امیرالمومنین ہونے کا بھی دعویٰ کر دیا۔دیگر مصروفیات کے علاوہ ہزاروں کے حساب سے مسلمانوں کا خون کرنا ان دونوں صاحبان کا خاص مشغلہ تھا۔پاکستان میں شدت 250