احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 8 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 8

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اُس وقت انگریز حکومت کا مخالف کون تھا؟ تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ اُس دور میں جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف مولوی صاحبان یہ اعلان کر رہے تھے کہ انگریز حکومت کے سب سے بڑے مخالف بانی سلسلہ احمدیہ اور ان کی جماعت ہے اور انگریز حکومت کے خیر خواہ وہ علماء ہیں جو کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔چنانچہ 1895ء میں جبکہ جماعت احمد یہ کے قیام کو صرف چھ برس ہوئے تھے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے بانی سلسلہ احمدیہ کے بارے میں لکھا: گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے اور گورنمنٹ اور مسلمانوں کے ایڈووکیٹ اشاعۃ السنہ نے گورنمنٹ کو جتا دیا ہوا ہے کہ یہ شخص در پردہ گورنمنٹ کا بدخواہ ہے۔۔۔وہ اپنے جملہ مخالفین مذہب کے مال و جان کو گورنمنٹ ہو خواہ غیر معصوم نہیں جانتا اور ان کے تلف کرنے کے فکر میں ہے۔دیر ہے تو صرف جمعیت و شوکت کی دیر ہے۔“ اشاعۃ السنہ نمبر 5 جلد 8 صفحہ 152 ) جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے فیصلہ میں تحریر کیا ہے کہ نعوذ باللہ انگریزوں نے جماعت احمدیہ کو اس لئے کھڑا کیا تھا تا کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کے خلاف جہاد کا خیال نکالا جائے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت جماعت احمدیہ کے مخالف مولوی صاحبان یہ عقیدہ ظاہر کر کے انگریز حکمرانوں کو خوش کر رہے تھے کہ جب ان کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی آئے گا تو حقیقی طور پر جہاد کا خاتمہ کر دے گا۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب تحریر کرتے ہیں : مہدی علیہ السلام کا وقت (جو بعینہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت ثانی کا وقت ہے) حکم جہاد کو جو ابتداء بعثت نبوی بلکہ اس سے پہلے بھی نبیوں کے وقت سے مستمر چلا آتا تھا اُٹھا دینے کا وقت ہوگا جس کا اُٹھایا جانا خود خاتم المرسلین کے حکم اور پیشگوئی سے ثابت ومسلم 8