احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 241
گاندھی جی کے بعض بیانات پر جو عیسائی تبلیغی سرگرمیوں پر ممکنہ پابندیوں کے بارے میں تھے اظہار تشویش کیا گیا تھا۔( Indian Roundtable Conference Second Session proceedings of Federal Structure Committee and Minorties Government of India: Published by Calcutta Vol۔3 Committes 1411, 1391, P1348, India Centrel Publication Branch 1939۔) اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ آزادی سے قبل پاکستان کی بانی جماعت کا مؤقف مذہب کی آزادانہ تبلیغ کے حق کو محفوظ کرنے کے حق میں تھا۔اور مسلم لیگ کی طرف سے جو آزادی اور حقوق کا جو تصور پیش کیا جار ہا تھا اس میں ایک اہم پہلو ہر ایک کے لئے تبلیغ کی آزادی کا حق تھا۔پاکستان بننے کے بعد مولوی صاحبان کے مطالبات لیکن پاکستان بننے کے دو تین سال بعد ہی بہت سے مولوی صاحبان (جن کی اکثریت پاکستان بننے کی ہی مخالف تھی) کے ایسے فتاویٰ سامنے آنے لگے کہ چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس لئے یہاں پر غیر مسلموں کو یا اُن کو جنہیں یہ مولوی صاحبان غیر مسلم سمجھتے ہیں تبلیغ کی بالکل اجازت نہیں ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ ان کا نظریہ یہ تھا کہ ان پر خود کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے خواہ وہ دوسروں کو واجب القتل ہی کیوں نہ قرار دے دیں۔چنانچہ جب 1953ء کے فسادات پر قائم ہونے والی تحقیقاتی عدالت میں اس بارے میں سوالات کئے گئے تو اکثر مولوی صاحبان نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان چونکہ ایک اسلامی مملکت ہے اس لئے یہاں پر غیر مسلموں کو کھلم کھلا تبلیغ کی 241