احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 240
ترجمہ: کوئی بھی آئین مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا جب تک اس میں ان امور کی ضمانت نہ دی جائے پیشہ اختیار کرنے کی آزادی مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی اور تعلیم کا حق وغیرہ۔حقیقت تو یہ ہے کہ سب کے لئے تبلیغ کی آزادی کا مطالبہ تو مسلم لیگ کا بنیادی مطالبہ تھا اور ان مطالبات میں قانون کے تابع Subject to law) کا ذکر نہیں تھا۔یہ بات اہم ہے کہ اسی سال یعنی مارچ 1931ء میں کراچی میں کانگرس نے بھی مستقبل کے آئین کے بارے میں اپنے مطالبات منظور کئے تھے اور ان مطالبات کا آرٹیکل 1 - ii مذہبی آزادی کے بارے میں تھا۔اور اس کے الفاظ یہ تھے۔"Every citizen shall enjoy freedom of conscience and the right freely to profess and practise his religion, subject to public order and morality وو ترجمہ: ہر شخص کو ضمیر کی آزادی اور قانون اور اخلاق عامہ کے تابع اپنے مذہب کا اعلان کرنے اور اس پر عمل کرنے کے حق کی آزادی حاصل ہوگی۔مسلم لیگ کی قرارداد کے برعکس اس قرارداد میں تبلیغ کا ذکر نہیں تھا۔اور اس حق کو قانون اور اخلاق عامہ کے تابع رکھا گیا تھا۔اسی طرح جب ستمبر تا دسمبر 1931ء میں لنڈن میں ہندوستان کے مستقبل کے آئین کے بارے میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی تو اس میں گاندھی جی نے کانگرس کی طرف سے مذہبی آزادی کی ضمانت کا ذکر کیا تو اس میں مذہب کے Profession and practice کا ذکر تھا لیکن تبلیغ کرنے کی اجازت کا ذکر نہیں تھا اور اس وقت ہندوستان کے عیسائیوں کی طرف سے جو میمورنڈم جمع کرایا گیا تھا اس میں 240