احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 233
کر لے۔جناب صدر ایک ایسا دستور جس میں مسلمان کے عقیدے کی مسلمان کے مذہب کی، مسلمان کے دین کی حفاظت کی ضمانت نہ دی گئی ہو۔اور کسی بھی حیثیت سے ، کہیں بھی کسی شخص کو بھی اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ مسلمان کے عقیدہ پر کسی قسم کی شرط لگا سکے۔مسلمان کے مذہب کو تبدیل کرا سکے۔جب تک اس قسم کی ضمانت اس میں موجود نہ ہو۔میں سمجھتا ہوں اس دستور کو مکمل طور پر اسلامی نہیں کہا جاسکتا۔“ (The National Assembly of Pakistan P712, 14 vol۔11 No, Constitution Making Debates) ان مثالوں سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جیسا کہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ کسی پارلیمنٹ یا مملکت کے کسی اور ادارے کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ بنیادی حقوق میں کمی کر سکے ورنہ اس سے فسادوں کا وہ دروازہ کھلے گا جس کو بند کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔تبلیغ پر پابندی اب ہم اس عدالتی فیصلہ کے اس حصہ کی طرف آتے ہیں جس میں جماعت احمدیہ کے خلاف نافذ کئے جانے والے آرڈینس کا ذکر ہے۔اس قسط میں ہم قانون اور اسلامی تعلیمات کی رو سے اس آرڈینس کی شقوں کا جائزہ لیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے زیر نظر فیصلہ میں اس آرڈینینس کے بارے میں شریعت کورٹ کے فیصلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اس لئے شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کا مختصر ذکر بھی کریں گے۔سب سے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ جنرل ضیاء صاحب کے جاری کردہ آرڈیننس میں تبلیغ کے حوالے سے جماعت احمدیہ پر کیا پابندی لگائی گئی تھی ؟ تعزیرات پاکستان کا یہ حصہ 2980 ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: 233