احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 232 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 232

بنا ئیں تو اس کا منحوس انجام کیا ہوتا ہے اور یہ بھی ملاحظہ ہو کہ جماعت احمدیہ کے خلاف جس قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلے کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے، اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی ؟ اور کسی کو یہ وہم نہ اُٹھے کہ اسمبلی میں ایک ممبر صاحب نے بہک کر ایسی بات کہہ دی۔اس کے بعد ISIS اور بوکوحرام نے اس کام کو عملاً کر بھی دیا۔اگر اس شدت پسند طبقے کو کھلی چھٹی دی جائے گی تو یہ خوفناک نتیجے نکلیں گے۔جماعت احمدیہ کے مخالف طبقہ کو آئین پاکستان کے پہلے باب سے ایک خاص عداوت ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق بیان ہوئے ہیں۔جیسا کہ ، ذکر کیا گیا کہ بیٹی بختیار صاحب نے تو یہ خوفناک نظریہ پیش کر دیا تھا کہ پارلیمنٹ آئین میں درج بنیادی حقوق اور اس شق کو کہ ان میں کمی بھی نہیں کی جاسکتی ختم کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کے مطابق (جو بنیادی حقوق کے باب کا حصہ ہے ) قانون اور امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیا گیا تھا لیکن مولوی صاحبان اس سے بھی خوش نہیں تھے کیونکہ اگر تبلیغ کی اجازت ہے تو پھر مذہب کی تبدیلی کی اجازت بھی دینی پڑے گی۔چنانچہ جب 1973ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں آئین کے مسودے پر بحث ہو رہی تھی تو مفتی محمود صاحب نے کہا: ”بنیادی حقوق کی دفعات میں ایک مسلمان کو مرتد ہونے کا حق حاصل ہے۔اب بتا ئیں کہ سرکاری مذہب اسلام کیسے ہو گیا۔“ (The National Assembly of Pakistan Constitution Making Debates, Vol II No۔13March 51973, p 644) جمیعت علمائے پاکستان کے قائد شاہ احمد نورانی صاحب نے کہا: اس دستور میں مسلمان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اختیار 232