احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 231
دیئے گئے ہیں۔یہ لفظ تو انگریز کے کیے ہوئے ہیں۔“ (The National Assembly of Pakistan, Constitution making debates Feb 281973, Vol 2No۔10, p 458-459) پھر دوبارہ اس مسئلہ پر مولوی نعمت اللہ صاحب نے کہا: یہ آئین جو آپ کے سامنے ہے۔اس میں کہا ہے کہ اگر آپ غلامی کو جائز رکھیں تو آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں شرمندہ ہو جائیں گے۔میں خدا کی قسم آپ کے سامنے کہتا ہوں کہ آپ دنیا میں بلکہ انتہائی درجہ تک سرخرو ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کی مدد آپ کے شامل حال ہوگی۔اور پیپلز پارٹی دنیا میں انتہائی درجہ تک سرخرو ہو جائے گی۔اور پاکستان پیپلز پارٹی دنیا میں سرخرو ہو جائے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی آئین پچیس سال بعد دنیا میں پیش کر دیا۔“ (The National Assembly of Pakistan, Constitution making debates Feb 281973, Vol 2No۔10, p 460) یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب پاکستان کی اسمبلی میں مولوی نعمت اللہ صاحب یہ تقریر فرما چکے تو کوثر نیازی صاحب نے کہا کہ کیا مفتی محمود صاحب کے بھی یہی نظریات ہیں۔تو نہ مفتی محمود صاحب نے اور نہ علماء میں سے کسی اور ممبر نے اس بات کی تردید کی کہ یہ ہمارے خیالات نہیں ہیں۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله ! یعنی ان علماء کو قرآن کریم اور احادیث میں غلاموں کو آزاد کرنے کی تاکید اور اس کے ثواب کا بیان نظر نہیں آیا اور ان کے نزدیک ملک میں اسلامی آئین کے نفاذ کا سب سے اہم پہلو یہی تھا کہ پاکستان میں غلام اور لونڈیاں بنانا شروع کر دو اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس طرح پاکستان دنیا بھر میں سرخرو ہو جائے گا۔یہ مثال پیش کرنے سے غرض یہ ہے کہ یہ واضح ہو کہ جب مولوی صاحبان یہ کہتے ہیں کہ ہم قوانین بنائیں گے اور ہم پر یہ پابندی نہ ہو کہ بنیادی حقوق کے خلاف قوانین نہ 231