احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 6
ہیں جو کہ جماعت احمدیہ کے قیام کے بعد جماعت احمدیہ کی مخالفت میں سب سے پیش پیش تھے۔ہم جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کے اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی تحریروں سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے قیام سے کچھ برس قبل 1883ء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ میں یہ اعلان شائع کروایا: ”ہند کے مسلمانوں میں کوئی دشمن سرکار انگریزی کا نہیں خواہ ان کو کوئی دشمن ان کا بلفظ وہابی مشہور کرے یا نہ کرے۔“ (اشاعة السنة النبویہ جلد 6 نمبر 6 صفحہ 177) عدالتی فیصلہ میں جماعت احمدیہ کے قیام کے بارے میں محمود غازی صاحب کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: The linchpin of the whole crusade was the propaganda against Jihad, the belief of which was motivating the Indian Muslims to rise against the British colonialism in India۔ترجمہ: اس ساری کاوش کا محور یہ تھا کہ جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کیا جائے کیونکہ اس پر ایمان ہندوستان کے مسلمانوں کو برطانوی استعماریت کے خلاف جوش دلا رہا تھا۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر خود جماعت احمدیہ کے مخالفین کے مطابق اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں میں کوئی ایک بھی سرکار انگریزی کا دشمن نہیں تھا تو پھر انگریز حکومت کس میں جذبہ جہاد ختم کرنے کے لئے اتنے پاپڑ بیل رہی تھی ؟ اسی فیصلہ کے صفحہ 41 پر محمود غازی صاحب کی یہ تحریر درج کی گئی ہے کہ انگریز حکمرانوں کی طرف سے: 6