احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 5 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 5

دیا ہے۔(صفحہ 114) حتی کہ ترکی کے خلیفہ مصر کے مسلمان حکمران اور دیگر مسلمان بادشاہ بھی جہاد کے قائل گروہوں کے خلاف سرگرم ہیں (صفحہ 115-116 ) پھر وہ بڑی مسرت سے اپنی حکومت کو اطلاع دیتے ہیں اس ملک میں سب سے بڑا فرقہ سینیوں کا ہے اور ان کے عمائدین نے بھی کلکتہ میں جمع ہو کر یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ انگریزوں کے خلاف جہاد جائز نہیں۔(صفحہ 120-121 ) پھر وہ لکھتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کے علماء نے بھی زور دار فتویٰ دیا ہے کہ عیسائی تو مسلمانوں کی حفاظت کر رہے ہیں ان کے خلاف جہاد خلاف شریعت ہے۔(صفحہ 218 ) اور شیعوں کے متعلق وہ تفصیل سے لکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک تو جب تک امام ظاہر نہ ہو جہاد گناہ ہے۔(صفحہ 116-118) مزید تسلی کے لئے وہ مکہ مکرمہ کے حنفی ، شافعی اور مالکی مفتیوں کے فتاوی درج کرتے ہیں کہ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جہاد جائز نہیں۔(Appendix1)۔جب یہ تمام فرقے جماعت احمدیہ کے قیام سے 18 سال قبل ہی برطانوی حکومت کی یہ خدمت کر چکے تھے تو یہ مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ انگریزوں نے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کو کھڑا کیا تھا۔اور عقل اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ جو گروہ انگریز حکمرانوں کی اس طرح حمایت کر رہے ہوں ، انگریز حکومت ان کے مقابل پر ایک گروہ کھڑا کرے۔(The Indian Musssalman's by WW Hunter Published by Sange Meel 1999) جماعت احمدیہ کے مخالفین کے نظریات یہ تو جماعت احمدیہ کے قیام سے قبل کے دور کا ذکر ہے۔اب ہم ان علماء کا ذکر کرتے 5