احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 216
میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر ضروری ہے۔جب پاکستان کے آئین میں اکیسویں ترمیم کی گئی اور اس کے تحت ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف بہت سی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ان میں سے کئی درخواستیں بہت سی وکلاء تنظیموں کی طرف سے تھیں۔عدالت عظمیٰ نے جب فیصلہ سنایا تو جہاں ایک طرف یہ ترمیم برقرار رکھی گئی وہاں فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں ہے اور آئین میں ترمیم کو عدالت عظمی میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں عدالت عظمیٰ آئین میں ترمیم کو ختم کرسکتی ہے۔اس فیصلہ میں لکھا گیا: be stated unequivocally that "Therefore, it can Parliament does not have unbridled or unfettered power to amend the Constitution, and if an amendment is made the Supreme Court has the jurisdiction to examine it and, if necessary, strike down the offending whole or part thereof۔The Supreme Court exercises this power not because it seeks to undermine Parliament or travel beyond its domain, but because the Constitution itself has granted it such power۔The Supreme Court's power of judicial review cannot be negated in any manner whatsoever because it is provided in the original 1973 Constitution and in its Preamble۔" فیصلہ کے اس حصہ کا خلاصہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ آئین میں ہونے والی 216