احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 215 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 215

غیر محدود اختیار ہے؟ دوسری آئینی ترمیم کی بحث سے قطع نظر اس بارے میں پوری دنیا میں قانونی اور آئینی بخشیں ہوتی آئی ہیں اور اب تک ہو رہی ہیں۔ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ پارلیمنٹ یا قانون ساز ادارے کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار ہے۔اگر پارلیمنٹ کوئی غلط ترمیم کرے تو یہ ترمیم غلط تو ہوگی لیکن اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔اگر اسے ختم کرنا ہے تو صرف پارلیمنٹ ہی ایسا کرسکتی ہے۔دوسرا گروہ یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں ہے۔مثلاً پارلیمنٹ کسی ترمیم کے ذریعہ بنیادی انسانی حقوق سلب نہیں کرسکتی۔پارلیمنٹ آئین کا بنیادی ڈھانچہ ختم نہیں کر سکتی اور اگر پارلیمنٹ ایسا قدم اُٹھائے تو ملک کی اعلیٰ عدالت اس ترمیم کو ختم کر سکتی ہے۔سوال و جواب کے مرحلہ کے دوران بیٹی بختیار صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے پاس دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں ترمیم کا غیر محدود اختیار ہے اور اگر پارلیمنٹ چاہے تو آئین میں اس شق کو بھی ختم کر سکتی ہے کہ آئین میں جن انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ان میں کسی قانون کے ذریعہ کمی نہیں کی جاسکتی۔تو سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار ہے؟ کیا قومی اسمبلی اور سینٹ دو تہائی کی اکثریت سے آئین میں کوئی بھی ترمیم کر سکتے ہیں؟ یا ان کے اختیار کی کوئی حدود ہیں؟ اس سوال کا تعلق صرف پاکستانی آئین کی دوسری ترمیم سے ہی نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں اس موضوع پر بحث ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے۔اس سلسلہ میں اگست 2015ء 215