احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 211
کارروائی کا رڈ کر دیا۔انہوں نے کہا: ”میرے پاس ، شاید اور ممبران کے پاس بھی ، بہت سے خطوط ایسے آئے ہوں گے جن میں یہ کہا گیا کہ یہ بڑی خطر ناک بات ہے کہ آپ اسمبلی کو دینی معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہیں کہ کون مسلمان ہے کون مسلمان نہیں ہے۔کل وہ کہیں گے سود جائز ہے۔۔۔۔حالانکہ میرے نزدیک مسئلہ کی نوعیت یہ نہیں ہے۔میں بھی اسمبلی کو در الافتاء کی حیثیت دینے کو تیار نہیں ہوں اور نہ یہ اسمبلی ایسے ارکان پر مشتمل ہے جنہیں فتوی دینے کا مجاز ٹھہرایا جائے لیکن یہاں فتوی دینے کی بات نہیں ہے ہمارے فتویٰ دینے یا نہ دینے سے اس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اگر آج ہم کہہ دیں کہ ہم آج کہہ رہے ہیں کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا چاہیے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آج تک وہ غیر مسلم نہیں تھے ،مسلمان تھے۔“ کارروائی سپیشل کمیٹی 1974 ، صفحہ 2875-2874) مندرجہ بالا عبارت ظاہر کر رہی ہے کہ خود ظفر احمد انصاری صاحب کے نزدیک پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے افراد پر مشتمل نہیں تھی جو کہ اس قسم کے معاملات پر فیصلہ کر سکے اور ان کے نزدیک کسی بھی اسمبلی کو اس قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔اور جماعت احمد یہ نے بالکل یہی موقف پیش کیا تھا جسے ظفر احمد انصاری صاحب اہانت آمیز اور اشتعال انگیز قرار دے رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ کارروائی کے آخر تک خود ممبران اسمبلی اس بات کو بھول چکے تھے کہ یہ سپیشل کمیٹی کس مقصد کے لئے قائم کی گئی تھی اور قانونی طور پر وہ اسی موضوع پر کام کرنے کی پابند تھی۔3 ستمبر کو سپیشل کمیٹی کی کارروائی کا یہ حصہ ملاحظہ ہو۔اس کمیٹی کے سر براہ صاحبزادہ 211