احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 204
ایک اور فہرست بنتی ہے جس میں علیحدہ احمدی شامل کئے جاتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور تفریق کیا ہوسکتی ہے؟ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ احمدیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس کی تفصیل پہلی قسط میں بیان کی جاچکی ہے۔آخر کوئی ایک مثال تو پیش کی جائے کہ ملک میں کون سا قانون احمدیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا گیا ہے؟ اب بابر اعوان صاحب کی رائے کے پہلے حصے کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔بابر اعوان صاحب کی رائے میں جب کوئی قانون آئین کے آرٹیکل 8 کے خلاف یا آرٹیکل 227 کے خلاف بنایا جائے تو ایسا قانون غیر قانونی ہے اور عدالت کے لئے لازمی ہے کہ اس کا جائزہ لے کر اسے منسوخ کر دے۔اُن کی رائے میں پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار غیر محدود نہیں ہے۔یہ اختیار اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ پارلیمنٹ آرٹیکل 8 یا آرٹیکل 227 سے متصادم قانون بنا دے۔پہلے آرٹیکل 8 کا جائزہ لیتے ہیں۔جیسا کہ گزشتہ قسط میں تفصیل بیان کی جاچکی ہے کہ یہ آرٹیکل بنیادی حقوق بیان کرتا ہے اور اس کے آغاز میں ہی لکھا ہوا ہے کہ مملکت اگر کوئی قانون بنائے جو اس سے متصادم ہو تو وہ اس حد تک جس حد تک اس آرٹیکل سے متصادم ہو ، منسوخ سمجھا جائے گا۔یہ سوال ایک بار پہلے بھی بڑی تفصیل سے زیر بحث آیا تھا اور اُس وقت زیر بحث آیا تھا جب 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کا وفد اپنا مؤقف پیش کر رہا تھا اور یہ موضوع زیر بحث تھا کہ کیا قومی اسمبلی یہ فیصلہ کرنے کی مجاز بھی ہے کہ نہیں ؟ کیا پارلیمنٹ جس طرح چاہے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے یا اس کی کوئی حدود ہیں۔204