احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 205
1974ء میں پیش کیا جانے والا مؤقف۔کیا اسمبلی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی تھی؟ اس بحث میں قدرتاً پہلا سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کیا کوئی اسمبلی یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ ایک گروہ کو کسی مذہب کی طرف منسوب ہونے کا اختیار ہے کہ نہیں ؟ اس اہم پہلو کے بارے میں جماعت احمدیہ نے اپنے محضر نامہ میں یہ موقف پیش کیا تھا کہ کسی بھی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے اور اگر اس سمت میں قدم اُٹھایا گیا تو یہ امر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کا راستہ کھولنے کا باعث بن جائے گا۔(محضر نامه صفحه 5) اس کارروائی کے آغاز سے پہلے بھی اس ضمن میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جون 1974 ء میں فرمایا تھا: پس ہزار ادب کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ عقل کی بات ہم حکومت کے کان تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جس کا تمہیں انسانی فطرت اور سرشت نے حق نہیں دیا ، جس کا تمہیں حکومتوں کے عمل نے حق نہیں دیا ، جس کا تمہیں یو۔این۔او کے Human Rights نے ( جن پر تمہارے دستخط ہیں ) حق نہیں دیا ، چین جیسی عظیم سلطنت جو مسلمان نہ ہونے کے باوجود اعلان کرتی ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کوئی شخص profess کچھ کر رہا ہو اور اس کی طرف منسوب کچھ اور کر دیا جائے۔میں کہتا ہوں میں مسلمان ہوں ، کون ہے جو دنیا میں جو یہ کہے گا کہ تم مسلمان نہیں ہو؟ یہ کیسی نا معقول بات ہے۔یہ ایسی نا معقول بات ہے کہ جولوگ دہریہ تھے انہیں بھی سمجھ آگئی۔پس تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کا تمہیں تمہارے اُس دستور نے حق نہیں دیا جس دستور کو تم نے ہاتھ میں پکڑ کر دنیا میں یہ اعلان کیا تھا کہ دیکھو کتنا اچھا اور 205