احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 196
اس حصہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدالت کے نزدیک کسی اقلیت کے لئے معزز عہدے پر مقررہونا بھی ممنوع ہے اور وہ صرف غیر معزز اسامیوں پر ہی کام کر سکتے ہیں۔پھر لکھا ہے: "It is significant to prevent this situation because the appointment of a non Muslim on constitutional posts is against our organic law and rituals۔" (page 170) ترجمہ: اس صورت حال کو روکنا ضروری ہے کیونکہ ایک غیر مسلم کا آئینی عہدوں پر فائز ہونا ہمارے organic law اور رسومات کے خلاف ہے۔عدالتی فیصلہ آئین کی بنیاد کے خلاف یہاں کلیدی اسامیوں کی جگہ ایک اور اصطلاح استعمال کی گئی ہے یعنی ” آئینی عہدے“۔اگر آئینی عہدوں سے مراد وہ تمام عہدے ہیں جن کا ذکر پاکستان کے آئین میں ہے تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ پاکستان کے آئین کی رو سے صرف وزیر اعظم اور صدر کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے اور باقی کسی عہدے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ مسلمان ہو۔مثال کے طور پر وفاقی وزراء اور صوبائی وزراء کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔اسمبلیوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔سینٹ کے چیئر مین کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔تمام عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان اور جج صاحبان کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔چیف الیکشنر کمیشنر ، چیئر مین پبلک سروس کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔یہ سب عہدے بھی تو آئین میں مذکور ہیں۔جب یہ بات کی جا رہی ہے کہ ان عہدوں : وں پر کوئی غیر مسلم یا جسے پاکستان کا آئین غیر مسلم قرار دیتا ہے ان عہدوں پر مقرر 196