احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 195
بشمول اعلیٰ آئینی عہدوں میں سرایت کر جانے کے عمل کا مسئلہ حل ہونا چاہیے تھا لیکن اس سمت میں کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔اگر چہ دوسری آئینی ترمیم کے بعد سے یہ قوم کا مطالبہ رہا ہے۔اس عدالتی فیصلہ کے صفحہ 168 پر یہ مطالبہ بالکل ایک اور رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔اور اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ عمل صرف احمد یوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے آگے بڑھایا جائے گا اور ہرا ہم سرکاری اہلکار سے نہ صرف یہ دریافت کیا جائے گا کہ اس کا مذہب کیا ہے بلکہ ہر مسلمان اہلکار سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ اس کا فرقہ کون سا ہے اور ایسا بڑے پیمانے پر کیا جائے گا۔چنانچہ لکھا ہے: Every citizen of the country has right to know that the person(s) holding the key posts belongs to which religious community۔۔۔۔۔۔۔۔(page168) ترجمہ: ہر شہری کا یہ حق ہے کہ وہ یہ جانے کہ جو شخص کلیدی عہدے پر کام کر رہا ہے ، اس کا مذہبی گروہ کیا ہے؟ احمدی صرف حساس نہیں بلکہ کسی معزز اور آئینی عہدے پر بھی مقرر نہیں ہو سکتے پھر اس فیصلہ میں احمدیوں کے بارے میں لکھا ہے: "Due to their names they can easily mask their belief and become part of Muslim majority۔Also they can then gain access to dignified and sensitive posts resulting in accumulation of all benefits۔" (page169-170) ترجمہ: اپنے ناموں کی وجہ سے وہ اپنے عقائد چھپاتے ہیں اور مسلم اکثریت کا حصہ بن جاتے ہیں اور معزز اور حساس عہدوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔195